مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خطرات کے باوجود دوسرے روز بھی پارلیمانی انتخابات جاری ہیں۔ کشیدہ حالات کے باعث گزشتہ روز کئی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا تھا۔ قندھار اور غزنی میں پہلے ہی انتخابات ملتوی کیے جا چکے ہیں۔
انتخابات کے پہلے روز مختلف پولنگ اسٹیشن پر دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ طالبان کی دھمکیوں اور پہلے روز کے تلخ تجربے کے بعد پولنگ کے دوسرے روز سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔ 50 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ افغانستان کے پارلیمانی انتخابات میں 250 کے لگ بھگ نشستوں کے لیے 2565 امیدوار مدمقابل ہیں۔ جن میں 417 خواتین بھی شامل ہیں۔ جس کے لیے 32 صوبوں میں 19 ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 2001 کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں جو افغان حکومت کے زیرانتظام منعقد کرائے جارہے ہیں اور پہلی بار ہی ان انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال کیا جارہا ہے۔
آپ کا تبصرہ